خستہ حال

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - پریشان حال؛ شکستہ دل، رنجیدہ؛ تھکن سے چور۔ "وہ اس قدر خستہ حال ہو چکا تھا کہ آگے چلنا اس کے لیے بہت مشکل تھا"      ( ١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ٤٨ ) ٢ - پھٹا پرانا، شکستہ، کہن سال۔ "پرانی خستہ حال کتابیں . بیچ میں قیصر صاحب"      ( ١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ٤٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ صفت 'خستہ' کے ساتھ عربی سے مشتق اسم 'حال' لگانے سے مرکب توصیفی 'خستہ حال' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٧٥٥ء کو "غلامی (اردو شہ پارے)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پریشان حال؛ شکستہ دل، رنجیدہ؛ تھکن سے چور۔ "وہ اس قدر خستہ حال ہو چکا تھا کہ آگے چلنا اس کے لیے بہت مشکل تھا"      ( ١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ٤٨ ) ٢ - پھٹا پرانا، شکستہ، کہن سال۔ "پرانی خستہ حال کتابیں . بیچ میں قیصر صاحب"      ( ١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ٤٨ )